سمندر میں الٹی اور متلی – وجوہات اور اس سے بچاؤ

یہ بات اکثر مشاہدہ میں آئی ہے کہ عموماً ہمارے نئے ساتھی شکاری جب کشتی میں سوار ہو کر گہرے یا کھلے سمندر میں جاتے ہیں  تو وہ اکثر بھاری پن، سر چکرانا، متلی یا الٹی جیسی کیفیات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ صرف نئے ہی نہیں کئی تجربہ کار دوست بھی             سی سِکنیس  میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔کئی دوست تو اس کیفیت سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور برداشت کرتے کرتے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کو اس کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔ لیکن اکثریت کے لیئے یہ کافی تکلیف دہ حالت ہوتی ہےاور وہ کشتی کے شکار سے توبہ کرنے کا تہیّہ کر لیتے ہیں(یہ اور بات ہے کہ سچّی توبہ کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے)۔ خیر اس بات پر سب کا اتّفاق ہے کہ اس ماندگی کی کیفیت سے نہ صرف متاثّرہ شخص بلکہ ساتھ جانے والے بھی بیزار ہوجاتے ہیں اور شکار کا پروگرام تفریح کے بجائے بوریت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

            دوستو میں آپ لوگوں سے اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات، اور مطالعہ کی روشنی میں اس تکلیف سے بچاؤ کی کچھ تراکیب بانٹنا چاہتا ہوں۔ ایک زمانہ تھا جب میں نے نیا نیا کشتی میں شکار پر جانا شروع کیا تو میں ہمیشہ  سی سکنیس کا شکار ہوتا تھا۔ ایسے مواقع بھی آتے کہ مجھے اتنی متلی اور الٹیاں ہوتیں کہ بیٹھنا تو درکنار لیٹنا بھی تکلیف دہ عمل بن  جاتا۔الٹیاں کرتے کرتے پیٹ بلکل خالی ہو جاتا اور آخر میں ہرا ہرا پِت اور جھاگ ہی منہ سے نکل رہا ہوتا تھا۔(آخ-ہیں نا)  لیکن بات سچ ہے ۔ ہوتے ہوتے میں عادی ہوتا چلا گیا، اس کیفیت میں بھی کمی آتی چلی گئی، مگر مکمّل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ کافی زمانہ کے بعد ایک نئے دوست کو ساتھ لے جانا شروع کیا جو ہم سے کافی زیادہ تجربہ کار تھا۔ اس نے جب ایک دفعہ میری یہ کیفیت دیکھی تو اس نے علاج تجویز کیا ۔ اس کے بعد سے آج تک شکر الحمدلللّٰہ اس تکلیف کا شکار شاذونادر ہی ہؤا ہوں۔

چنانچہ اب آپ کو کچھ اشارئیے دیتا ہوں، عمل کیجیئے ، افاقہ ہو تو دعاؤں میں یاد رکھئیے گا۔

 ۔۔۔۔۔طبیعت میں خرابی سب سے عمومی وجہ نیند کی کمی ہے! جی ہاں بات عجیب سی لگتی ہے مگر سچ ہے۔ تو سمندر میں جانے سے پہلے ایک اچّھی نیند بہت ضروری ہے۔ اگر کشتی میں سوار ہونے کے بعد بھی آپ کو نیند کا گمان بھی ہو تو تھوڑا سا سو جائیں چاہے آدھے گھنٹے کے لئیے ہی بہت بہتر محسوس کریں گے۔

۔۔۔۔۔ اگر آپ کا نزلہ سر میں جما ہؤا رہتا ہے تو اس بات کا  قوی امکان ہے کہ آپ کو سی سکنیس کا احساس ہی نہ ہو۔ مضحکہ خیز بات لگتی ہے مگر بات صحیح ہے۔اس کے بر عکس اگر آپ کو بہتا ہؤا نزلہ ہو تو زیادہ امید یہ ہے کہ آپ کو متلی ضرور ہو گی۔

۔۔۔۔۔ بازار کی چیزیں اور خاص طور پر تلی ہوئی چیزوں سے جو بازارُو تیل یا گھی میں تلی ہوئی ہوں ان سے حتّٰی الامکان گریز کریں۔ ہم لوگ اکثر شکار پر جاتے ہوئے بھاری بھرکم پراٹھوں وغیرہ کا ناشتہ کرتے ہیں  جو کہ ہماری روز مرّہ غذا کا حصّہ نہیں ہوتے۔ اگر آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو متلی ہو سکتی ہے تو ایسا کھانا ہرگز نہیں چلے گا۔ دوسری جانب خالی پیٹ جانا بھی صحیح نہیں ہے۔لہٰذا ناشتہ یا کھانا ضرور کھا کر جائیں اور وہی کچھ کھائیں جو آپ کے روز مرّہ معمولات کا حصّہ ہیں۔اگر آپ عموماً پراٹھے وغیرہ کھانے کے عادی ہیں تو شوق سے کھائیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ آپ کا معدہ ایسی  غذا کا عادی ہے تو بد ہضمی کی امید نہیں۔

۔۔۔۔۔ ادرک ۔ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نمایاں نعمت ہے۔بے شمار طبّی فوائد کی حامل ہے۔علاوہ ازیں پوری دنیا میں سی سکنیس سے بچاؤ کے لیئے اس کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس تکلیف میں ادرک کی افادیت متّفقہ طور پہ ثابت شدہ ہے۔ ہو سکے تو کشتی میں سوار ہونے سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے تھوڑی سی ادرک چبا کر کھا لیں(کم ازکم آدھا چمچہ) ۔ اگر آپ کو کچّی ادرک کا ذائقہ ناگوار لگتا ہے تو کئی متبادل موجود ہیں جیسے ادرک کا پیسٹ اور شہد، یا کسی بھی اور فلیور کے ساتھ، ادرک کا جام، ادرک کا اچار، سوکھا ہؤا ادرک لیموں وغیرہ وغیرہ۔ ویسے کچھ خاص دوکانوں پر ادرک کے کیپسول ےا ٹیبلٹ بھی دستیاب ہوتے ہیں (لیکن میرے خیال سے یہ کچھ زیادہ ہی تکلّف ہو جائے گا)۔ ان تمام میں سے جو بھی آپ کو پسند ہو و ساتھ رکھیں اور اگر دورانِ سفر جیسے ہی سر گھومنے کا احساس  شروع ہو تھوڑا سا پھر کھا لیں۔

Gravinate tablet (Dimenhydrinate – Generic Name)

۔۔۔۔۔ سی سکنیس کے معاملے میں یہ دوائی تقریباً جادوئی اثر رکھتی ہے۔کشتی میں سوار ہونے سے کم از کم آدھا یا ایک گھنٹہ پہلے دو (2) گولیاں کھا لیں (جی ہاں دو کیونکہ ایک اثر نہیں کرتی) ۔ اس کے بعد یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ کم سے کم پانچ (5) سے چھ (6) گھنٹے تک سی سکنیس نہیں ہوگی۔ میرے لیئے تو پہلی دو ہی کافی ہوتی ہیں دوبارہ ضرورت نہیں پڑتی لیکن اگر کسی کو اس کا اثر ضائل ہوتا ہؤا محسوس ہو تو وہ ایک گولی اور کھا لے (مگر یاد رہے پہلی دو کشتی میں سوار ہونے سے پہلے)۔ اور ہاں آپ نے بلکل صحیح پڑھا میں اب بھی جبکہ سمندر میں جاتے ہؤے تیس (30) سال سے زیادہ ہو گئے  دو گولی کھا کر کشتی میں سوار ہوتا ہوں چاہے سمندر کی کیفیت کیسی ہی ہو۔جی ہاں مجھے اب سی سکنیس تقریباً بلکل نہیں ہوتی مگر احتیاطاً میں ایسا موقعہ آنے ہی کیوں دوں۔ مزیدِ براں اس دوائی کے کوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں تو بلا خطر استعمال کی جا سکتی ہے۔ ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے نیند آتی ہے، لیکن مجھے تو کبھی بھی اس کا احساس نہیں ہؤا، واللہ اعلم۔

۔۔۔۔۔ ڈیزل/پیٹرول یا کسی بھی اور ایندھن کا دھواں آپ کی طبیعت خراب کرنے میں بہت کارگر ہوتے ہیں تو جتنا ممکن ہو ایسے دھوؤں کے مخارج سے دور ہو کر بیٹھیں جیسے چلتا ہؤا کشتی کا انجن یا جینریٹر وغیرہ۔

۔۔۔۔ کشتی میں  کافی دیر تک نیچے دیکھتے رہنے کے بعد اچانک اوپر یا سیدھا دیکھنے سے بھی اکثر اس کیفیت کا آغاز ہو سکتا ہےلیکن ایسا قلیل عرصہ کے لیئے ہوتا ہے تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں  تھوڑی دیر میں صحیح ہو جائے گا۔

ان تمام تدابیر کے بعد بھی اگر خدانخواستہ پھر بھی چکّر اور الٹی کی کیفیت  ہو جائے تو بجائے ساتھیوں کو پریشان کرنے کے بہتر ہو گا کہ الٹے ہو کر پیٹ کے بل لیٹ کر سو جائیں (نیند نہ بھی آ رہی ہو تو بھی الٹے لیٹیں رہیں)  جب تک ایسے رہیں گے کچھ نہیں ہو گا۔

مجھے امید ہے کہ میں نے تمام ہی ممکنہ وجوہات اور علاج و تدابیر بیان کر دیے ہیں لیکن پھر بھی اگر کسی دوست کو لگتا ہے کہ کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے تو از راہِ کرم آگاہ کرنے میں کوتاہی نہ کیجیئے گا۔

آپ سب دوستوں  کے لیئے بحفاظت اور پر لطف شکاری  اسفار کے لیئے دعاگو؛

فریدؔ

Leave a Reply